ڈبلیو ایچ او کا اجلاس شروع، وبائی امراض سے متعلق ممالک تقسیم

عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او، کے رکن ممالک سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں عالمی طبی اور صحت سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اس اجلاس کا آغاز جنیوا میں پیر کو ہوا، جس میں 194 رکن ممالک کے حکام نے شرکت کی ہے۔

ایجنڈے میں شامل دیگر موضوعات میں بین الاقوامی صحت کے ضوابط پر نظر ثانی کرنا شامل ہے، جن میں سرحدوں کے آر پار پھیل سکنے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ممالک کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کا لائحہ عمل دیا گیا ہے۔

توجہ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ آیا اس اجلاس میں مستقبل کے وبائی امراض کے لیے عالمی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے ضمن میں کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

وبائی مرض کے معاہدے کا خیال عالمی وبائی مرض کووڈ 19 سے نبرد آزما ممالک میں تقسیم کی روشنی میں پیش کیا گیا تھا۔ مجوزہ معاہدے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے اقدامات شامل ہیں۔

مذاکرات کاروں نے ڈبلیو ایچ او کے اجلاس سے پہلے عالمی وبائی امراض کے معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دو سال کے مذاکرات کے بعد بھی ویکسین کی تقسیم اور دیگر مسائل پر منقسم رہے۔

اجلاس کے عہدیداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے مذاکرات کو کیسے جاری رکھا جائے۔