جاپان، چین، جنوبی کوریا سربراہ اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری

جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے سربراہان نے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا ہے جس میں جزیرہ نما کوریا کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے مثبت کوششیں جاری رکھنے کا عہد بھی شامل ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رہنماؤں نے سہ فریقی سربراہ اجلاس اور سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاسوں کو بغیر کسی وقفے کے مستقل بنیادوں پر منعقد کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔

رہنماؤں نے چھ اہم شعبوں پر مرکوز باہمی سود مند تعاون کے منصوبوں کی نشاندہی اور ان پر عمل درآمد کا عہد کیا۔ یہ شعبے ہیں: افرادی تبادلے؛ موسمیاتی تبدیلی پر ردِعمل سمیت پائیدار ترقی؛ اقتصادی تعاون اور تجارت؛ صحت عامہ اور عمر رسیدہ معاشرہ؛ سائنس اور ٹیکنالوجی تعاون، ڈیجیٹل ترقی و تبدیلی؛ اور آفات سے نجات و بچاؤ۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رہنما 2025ء سے 2026ء کو تینوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کے سال کے طور پر نامزد کریں گے، سیاحت اور دیگر ذرائع کی مدد سے 2030ء تک عوام کے درمیان سہ فریقی تبادلوں کی تعداد کو 4 کروڑ تک بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے سہ فریقی آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات میں تیزی لانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

رہنماؤں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی ایشیاء میں امن، استحکام اور خوشحالی کو برقرار رکھنا ان کے اپنے ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے اور ان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بالترتیب علاقائی امن و استحکام، جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے اور اغوا کے معاملے پر اپنے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔