جاپانی محققین نے چاند کے معدنی ڈیٹا کی تصدیق کر دی

جاپانی محققین نے، جنوری میں چاند پر اترنے والے خلائی جہاز کے جمع کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے، اولیوائن کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جو ایک اہم معدنی عنصر ہے اور چاند کے ماخذ کے بارے میں سوالات کے جواب دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

چاند پر تحقیق کے لیے اسمارٹ لینڈر ،ایس ایل آئی ایم، پہلا جاپانی خلائی جہاز ہے جو چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اترا ہے۔

رِتسُومیئیکان اور آئیزُو یونیورسٹیوں کے محققین سمیت دیگر پر مشتمل ایک ٹیم نے پیر کے روز ٹوکیو کے قریب چیبا پریفیکچر میں منعقدہ ایک تحقیقی اجلاس میں اپنے نتائج پیش کیے ہیں۔

محققین نے چاند کی سطح پر موجود چٹانوں کی تصاویر کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ تصاویر لینڈر کے کیمرے سے حاصل کی گئی تھیں۔

محققین کے مطابق، انہوں نے ایسا ڈیٹا حاصل کیا ہے جس سے اولیوائن نامی معدنی عنصر کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جو ممکنہ طور پر چاند کی گہرائی میں موجود تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معدنی عنصر کی کیمیائی ساخت کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

چاند اور زمین کے اولیوائن کا موازنہ کرنے سے اس وسیع پیمانے پر قبول شدہ نظریے کی تائید ہو سکتی ہے کہ چاند، زمین اور دوسرے اجرام فلکی کے درمیان تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔

آئیزُو یونیورسٹی کی پروفیسر اوتاکے ماکِیکو کا کہنا ہے کہ محققین ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب رہے جس کا انہیں طویل عرصے سے انتظار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق نے انتہائی امید افزا نتائج فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے مزید تجزیوں کے ذریعے چاند کے ماخذ پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔