یوکرینی صدر کی امریکی اور چینی رہنماؤں سے امن سربراہی اجلاس میں شرکت کی اپیل

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ اور چین کے رہنماؤں سے آئندہ بین الاقوامی امن کانفرنس میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے، اور ان سے کہا ہے کہ وہ "حقیقی امن" قائم کرنے کے لیے اپنی قیادت کا مظاہرہ کریں۔

صدر زیلنسکی اگلے ماہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے اجلاس کو اپنے امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سربراہی اجلاس میں 80 سے زائد ممالک شرکت کریں گے۔

زیلنسکی نے کہا کہ وہ ان عالمی رہنماؤں سے اپیل کر رہے ہیں جو اب بھی سربراہی اجلاس کی عالمی کوششوں سے الگ ہیں۔

انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کا نام لیا، اور ان سے کہا کہ وہ "صرف حملوں کے درمیان ایک وقفہ نہیں، بلکہ حقیقی امن کو آگے بڑھانے میں اپنی قیادت کا مظاہرہ کریں"۔

سربراہی اجلاس میں یوکرینی صدر جن موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہیں ان میں روس کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ، توانائی اور جوہری سلامتی اور روس لے جائے گئے بچوں کی واپسی شامل ہیں۔

روس نے ملک کے مشرقی حصے میں یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر میزائلوں اور دیگر ذرائع سے حملے جاری رکھے۔

ہفتہ کے روز، شہر میں ایک مصروف تجارتی مرکز کو گائیڈڈ بموں کا استعمال کرتے ہوئے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں مقامی گورنر کے مطابق، ایک 12 سالہ لڑکی سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔