وزیرِ اعظم کِشیدا کے جنوبی کوریائی صدر سے سیئول میں مذاکرات

جاپان کے وزیر اعظم کِشیدا فُومیو اور جنوبی کوریا کے صدر یُن سوں نیئول نے اتوار کے روز سیئول میں دو طرفہ بات چیت کی۔

باور کیا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے، دوطرفہ تعلقات کی بہتری میں تیزی لانے پر اتفاق کیا کہ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی 60 ویں سالگرہ آئندہ سال منائی جائے گی۔

صدارتی دفتر میں یہ ملاقات اُس سہ فریقی سربراہ اجلاس سے قبل ہوئی جس میں چینی وزیر اعظم لی چیانگ بھی شامل ہوں گے۔

جناب کِشیدا نے ملاقات کی ابتدا یہ کہتے ہوئے کی کہ وہ صدر یُن کے ساتھ قریبی بات چیت کا موقع ملنے پر خوش ہیں اور وہ اعتماد پر مبنی تعلقات کی بنیاد پر دوطرفہ سفارتکاری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

جاپانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کو برقرار رکھنے، اسے مضبوط بنانے اور ایسے وقت پر عالمی مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے قریبی دو طرفہ تعاون کے خواہشمند ہیں، جب عالمی برادری ایک تاریخی موڑ پر ہے۔

صدر یُن نے کہا انہیں خوشی ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے ثمرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے یہ تصدیق کی ہے کہ ان کے ممالک نوجوانوں کے تبادلوں کو وسعت دیں گے۔

یہ بھی باور کیا جاتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل ترقی سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مضبوط کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تعاون بھی شامل ہے۔ انہوں نے جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان سہ طرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔