بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم کے باوجود رفح پر اسرائیلی حملے جاری

بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے اسرائیل کو فوری طور پر فوجی کارروائی روکنے کا حکم دینے کے بعد بھی اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کی پٹی کے علاقے رفح میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے غزہ میں کہاں فوجی کارروائی کی ہے۔ عین اسی دن دی ہیگ کی عدالت نے عارضی اقدام کا حکم دیا تھا۔

اسرائیل نے کہا تھا کہ اس کے فوجیوں نے رفح میں ایک دہشت گرد سیل کو توڑ دیا ہے، اور شمالی غزہ کے جبالیا میں درجنوں جنگجو ہلاک کر دیئے ہیں۔

دریں اثنا، غزہ میں صحت کے حکام نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران محصور علاقے میں 46 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 35,903 تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے کچھ اداروں نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ لڑائی میں وقفے اور غزہ میں قید بقیہ یرغمالیوں کی رہائی پر تعطل کے شکار مذاکرات، آنے والے دنوں میں دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کی سی آئی اے کے سربراہ اور قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ مذاکرات "ثالثوں، مصر اور قطر کی قیادت میں نئی تجاویز کی بنیاد پر" اور امریکہ کی فعال شمولیت کے ساتھ بحال ہوں گے۔

اسرائیل اور حماس نے 7 اکتوبر کو تنازع شروع ہونے کے بعد سے صرف ایک بار اس لڑائی میں وقفہ کرنے کی بات مانی تھی۔ یہ وقفہ نومبر کے آخر سے سات دن تک جاری رہا۔ لیکن اس کے بعد سے دونوں فریقوں میں اختلافات ہیں، جو ایک بار پھر وقفہ کرنے پر ہونیوالے مذاکرات کا جمود توڑنے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے بعد بھی تعطل کو دور کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔