G7 وزرائے مالیات کا چین کی بے تحاشہ صنعتی پیداوار پر اظہارِ تشویش

گروپ آف سیون ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز نے چین کی زائد ازضرورت صنعتی پیداوار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیجنگ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ برقی گاڑیاں اور دیگر مصنوعات، بیرون ملک غیر منصفانہ طور پر کم قیمت میں فروخت کرنے کے لیے، بے شمار گاڑیاں تیار کر رہا ہے۔

G7 حکام نے شمالی اٹلی کے شہر اسٹریسا میں ہفتے کے روز دو روزہ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے، "ہم چین کی جانب سے غیر منڈی پالیسیاں اور طریقے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں جو ہمارے کارکنوں، صنعتوں اور اقتصادی لچک کو کمزور کرتے ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام "عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کے مطابق یکساں موقعوں کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے پر غور کریں گے۔"

شرکاء نے روسی اثاثوں سے حاصل شدہ منافع کو استعمال کرتے ہوئے یوکرین کی مدد کرنے کے مشورے پر بھی تبادلۂ خیال کیا جو یوکرین پر حملے کی پاداش میں روس پر عائد پابندیوں کے ایک حصے کے طور پر منجمد کر دیے گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام آئندہ ماہ منعقد ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس سے قبل اپنے رہنماؤں کو یہ تجاویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔