امریکہ اور مصر کا زمینی راستے سے غزہ میں امداد کی ترسیل کی بحالی پر اتفاق

امریکہ اور مصر نے زمینی راہداری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں امداد کی ترسیل کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے جمعہ کے روز ٹیلیفون پر بات کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بائیڈن نے صدر السیسی کے اس عزم کا خیرمقدم کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کردہ انسانی امداد کو کریم شالوم کراسنگ کے ذریعے عارضی بنیادوں پر مصر سے ترسیل کی اجازت دیں گے۔ مصر نے بھی معاہدے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اقدام غزہ میں خوراک کی شدید قلت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مصر اور جنوبی غزہ کے درمیان رفح کراسنگ، اسرائیلی فوج کی جانب سے زمینی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے بند ہے۔

غزہ کے ساحل پر امریکہ کی تعمیر کردہ ایک عارضی گھاٹی کے ذریعے امداد کی ترسیل 17 مئی کو شروع ہوئی تھی۔

امریکی وزارتِ دفاع نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ یہ اقدام شروع ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ میں 506 ٹن امداد تقسیم کی جا چکی ہے۔

لیکن وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ یہ مقدار تقریباً 71 ٹرکوں کی گنجائش کے حجم کے برابر ہے، جو یومیہ 90 ٹرک لوڈز کے ابتدائی ہدف سے بہت کم ہے۔

اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مقدار 20 لاکھ سے زائد آبادی کی تخمینہ کردہ کم از کم یومیہ ضرورت کا تقریباً 15 فیصد ہے۔