ایرانی فوج نے ہیلی کاپٹر حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

ایرانی فوج نے ملک کے صدر اور دیگر افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے پرواز کے عملے اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کوئی مشکوک چیز محسوس نہیں کی۔

ہیلی کاپٹر اتوار کو شمال مغربی ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت ہیلی کاپٹر میں موجود تمام آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جمعرات کو ملک کے سرکاری میڈیا کے ذریعے ابتدائی نتائج شائع کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پہلے سے طے شدہ راستے پر سفر کے دوران ایک پہاڑ سے ٹکرا گیا اور اس میں آگ لگ گئی اور یہ کہ ملبے میں گولیوں کے کوئی نشانات نہیں ملے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ نے حادثے سے تقریباً 90 سیکنڈ قبل گروپ کے دیگر دو ہیلی کاپٹروں سے رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق فلائٹ کے عملے اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے درمیان بات چیت میں کوئی غیر معمولی بات نہیں سنی گئی۔