جاپانی ایوان زیریں میں بچوں کے تحفظ کے لیے جنسی مجرموں کی اسکریننگ کا بل منظور

جاپان کے ایوان زیریں نے بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے ایک بل منظور کیا ہے۔ یہ بل بچوں کی پرورش کے شعبوں میں ملازمت کے خواہاں افراد کے جنسی جرائم کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اجازت دے گا۔

ایوان زیریں کے تمام ارکان پر مشتمل اجلاس نے جمعرات کو متفقہ طور پر اس قانون کی منظوری دی، جسے برطانیہ کی ڈسکلوژر اینڈ بارِنگ سروس یا ڈی بی ایس کا جاپانی ورژن کہا جاتا ہے۔ یہ بل غور و خوض کیلئے ایوان بالا کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

اس قانون کے نفاذ کے بعد اسکولوں اور بچوں کے دیگر مراکز کے منتظمین کو ملازمت کے خواہاں افراد کی جنسی جرائم کی سزاؤں کے بارے میں وزارت انصاف سے معلومات حاصل کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

ریکارڈ تک رسائی چلڈرن اینڈ فیملیز ایجنسی کے ذریعے کی جائے گی۔

اسکول، ڈے نرسریاں، بچوں کے فلاحی مراکز اور دیگر تصدیق شدہ ادارے جانچ پڑتال کرنے کے پابند ہوں گے۔

بل میں مخصوص جنسی جرائم کا احاطہ کرنے کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ ان جرائم میں رضامندی کے بغیر جنسی تعلقات اور چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق قانون کی خلاف ورزی شامل ہیں۔

سزا پانے والوں کو قید کی سزا دی جانے کی صورت میں ان کا ریکارڈ سزا پوری ہونے کے بعد 20 سال تک قابل رسائی ہوگا۔

اس سے قبل ایوان زیریں کی ایک خصوصی کمیٹی نے اس بل کے لیے ایک ضمنی قرارداد منظور کی تھی۔ جس میں مخصوص جنسی جرائم کے دائرہ کار میں ممکنہ توسیع کرکے انڈر وئیر چوری اور ستائے جانے کو اس میں شامل کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں ریکارڈ تک رسائی کی مدت میں توسیع اور ہوم ٹیوٹرز اور بے بی سیٹرز جیسے فری لانس کارکنوں کی اسکریننگ پر مزید بحث کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔