جاپان شمالی کوریا آخری سربراہ مذاکرات کے 20 سال بعد، مغویوں کی وطن واپسی کے عزم کا اعادہ

بدھ کے روز جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان دوسری سربراہ ملاقات کو بیس سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اِن مذاکرات کی وجہ سے پانچ جاپانی شہری واپس آئے جنہیں شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے اغوا کر لیا تھا۔ جاپانی چیف کابینہ سیکرٹری نے باقی مغویوں کو واپس لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

سال 2002 میں جاپان کے اس وقت کے وزیراعظم کوئیزُومی جُن اِچیرو نے اُس وقت کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِل کے ساتھ سربراہ ملاقات کے لیے پیانگ یانگ کا دورہ کیا۔ جس کے نتیجے میں پانچ مغویوں کی واپسی ہوئی۔

کوئیزومی نے 2004 میں ایک بار پھر پیانگ یانگ کا دورہ کیا۔ اِس دوسری سربراہ ملاقات کے نتیجے میں واپس آنے والے اغوا شدہ افراد کے خاندانوں کے پانچ لوگ شمالی کوریا سے جاپان آ گئے۔ لیکن اس کے بعد سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے کم از کم 17 شہریوں کو شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے 1970 اور 1980 کے عشروں میں اغوا کیا تھا۔ ان میں سے 12 اب بھی لاپتہ ہیں۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری ہایاشی یوشی ماسا نے بدھ کے روز کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ایک بھی مغوی واپس نہیں آیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام مغویوں کو جلد از جلد وطن واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔