بین الاقوامی فوجداری عدالت استغاثہ کا اسرائیل اور حماس کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ

بین الاقوامی فوجداری عدالت، آئی سی سی، کے سربراہِ استغاثہ کریم خان نے کہا ہے کہ غزہ میں تنازعے کے دونوں جانب کے لوگ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مجرمانہ ذمہ دار ہیں۔ وہ درخواست کر رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہُو اور غزہ کی پٹّی میں حماس کے رہنماء یحییٰ سِنوار سمیت پانچ افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے جائیں۔

خان نے پیر کے روز دی ہیگ کی عدالت سے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی رہنماء فاقہ کشی کو "جنگ کے ہتھیار" کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور "جان بوجھ کر شہری آبادی کے خلاف حملوں کی ہدایت دے رہے ہیں"۔ خان نے اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے کے لیے بھی درخواست جمع کروائی ہے۔

خان نے لکھا کہ حماس کے رہنماء سِنوار، اسماعیل ہانیہ اور محمد الضیف نے 7 اکتوبر کو اسرائیلی دیہات پر ہوئے حملوں کی "منصوبہ بندی کی اور اُکسایا"۔ اُنہوں نے لکھا کہ یہ لوگ سینکڑوں شہریوں کے قتل اور کم از کم 245 افراد کو یرغمالی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ اُن کا کہنا تھا، "ہم واضح انداز میں نشاندہی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون اور مسلح تصادم کے قوانین ہر ایک پر لاگُو ہوتے ہیں"۔ "کوئی پیدل سپاہی، کوئی کمانڈر، کوئی غیرعسکری رہنماء، کوئی بھی استثنیٰ کے ساتھ عمل نہیں کر سکتا"۔

نیتن یاہُو نے خان کے اعلان کو "تضحیک" قرار دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اسرائیل اور "حماس کے حواریوں" کا موازنہ کرنا "انصاف کا مذاق" ہے۔

حماس کے عہدیداروں نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ خان کی جانب سے "متاثرہ" کو "جلّاد" کے برابر قرار دینے کی کوشش کی "سختی سے مذمت" کرتے ہیں۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اُن کے رہنماؤں کی گرفتاری کے تمام احکامات منسوخ کر دیں۔