آبنائے تائیوان کے امن و استحکام کیلئے جاپان کوشاں

جاپان کی حکومت تائیوان کے نئے صدر لائی چنگ تے کی حلف برداری کے بعد آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جناب لائی نے پیر کو حلف برداری کی تقریر میں بیجنگ کے اس دعوے کی تردید کی کہ تائیوان چین کا حصہ ہے، اور کہا، "جمہوریہ چین اور عوامی جمہوریہ چین ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہیں۔"

چینی حکومت کے ایک عہدیدار نے جناب لائی کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئے صدر نے خطرناک پیغام دیا ہے جس میں عوامی رائے کو نظر انداز کیا گیا ہے، یہ زمانے کے خلاف ہے اور آبنائے تائیوان کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کرتا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ اس تقریر سے جناب لائی کی فطرت میں "تائیوان کی آزادی کا کارکن" ہونا بے نقاب ہوا ہے۔

جاپانی وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جناب لائی کی جانب سے بیان بازی میں شدت آنے کی صورت میں تناؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ نئے صدر نے بیجنگ کے "ایک چین" کے اصول کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

چیف کابینہ سیکریٹری ہایاشی یوشی ماسا نے کہا ہے کہ آبنائے تائیوان کے امن و استحکام کو یقینی بنانا جاپان سمیت عالمی برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ جناب ہایاشی نے کہا کہ جاپان کا مستقل موقف ہے کہ وہ تائیوان سے متعلق مسائل کو بات چیت کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرنے کی توقع رکھتا ہے۔