چین سے تعلقات کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے گا، آبنائے کے آر پار امن کے خواہاں ہیں: تائیوانی صدر

تائیوان کے صدر لائی چنگ تے، نے اپنے منصب کے افتتاحی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ تائیوان کے تعلقات کو جوں کا توں برقرار رکھیں گے اور مل کر امن اور خوشحالی کے خواہاں رہیں گے۔

صدر لائی نے پیر کی صبح تائپے میں صدارتی دفتر میں ایک تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں گے، اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے نبھائیں گے، لوگوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دیں گے اور تائیوان کی حفاظت کریں گے۔

اس کے بعد نئے صدر نے صدارتی دفتر کے سامنے بنائے گئے اسٹیج سے تقریر کی۔

صدر لائی نے چین کے ساتھ تائیوان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت "نہ تو جھکے گی اور نہ ہی اشتعال دلائے گی اور صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھے گی۔"

صدر لائی نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین بات چیت اور تبادلے کی راہ منتخب کرے گا، اور "مساوات اور وقار کے اصولوں کے تحت، تائیوان کے عوام کی منتخب کردہ قانونی حکومت کے ساتھ تعاون کو استوار رکھے گا۔"

صدر لائی نے اس کے ساتھ ہی تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "چین کی طرف سے دراندازی کے بہت سے خطروں اور کوششوں" کے پیش نظر تائیوان کا دفاع کرنے کے لیے "ہمیں اپنے عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔"

بیجنگ کا دعویٰ ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ صدر لائی نے یہ کہتے ہوئے اس دعوے کی تردید کی کہ جمہوریہ چین اور عوامی جمہوریہ چین "ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہیں۔"

چین نے صدر لائی کو علیحدگی پسند قرار دیا ہے اور بظاہر انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔