روس میں 2024 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 5.4 فیصد

روسی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ملکی محکمۂ شماریات Rosstat نے جنوری تا مارچ کے دورانیے کی مجموعی ملکی پیداوار کے ابتدائی اعداد و شمار جمعہ کے روز جاری کیے ہیں۔

سال بہ سال اضافہ مسلسل چوتھی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی علامت ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ روسی معیشت کی لچک کی عکاسی کرتا ہے جو یوکرین پر روسی حملے اور مغربی ممالک کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے بعد 2022ء میں 1.2 فیصد سکڑ گئی تھی۔

2023ء میں روسی معیشت میں سالانہ 3.6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی میں روسی معیشت کے ایک ماہر اسسٹنٹ پروفیسر نکولس مولڈر نے روس کی دفاعی صنعت کو ترقی کے پیچھے ایک ممکنہ عنصر قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’صدر پوٹن نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 5 لاکھ نئے کارکنوں کو صنعت کی طرف راغب کیا گیا‘‘۔

انہوں نے کہا، "جیسے جیسے وہ زیادہ پیسہ کماتے ہیں، یہ معیشت کے دوسرے شعبوں میں پھیلتا چلا جاتا ہے"۔

مذکورہ ماہر نے اس رائے کا اظہار کیا کہ جنگ لڑنے کے لیے درکار بھاری فوجی اخراجات نے ممکنہ طور پر معیشت کو عارضی فروغ دیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس سال روس کی مجموعی ملکی پیداوار میں سالانہ 3.2 فیصد اضافے کا امکان ہے۔