روس اور چین جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کو وسعت دیں گے: پوٹن

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کا کہنا ہے کہ مغرب سے روس کی ہائی ٹیک مصنوعات کی درآمد پر پابندیوں کے دوران ان کا ملک جدید ٹیکنالوجی میں چین کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرے گا۔

پوٹن نے جمعہ کے روز، چین کے شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ کے ہاربِن میں ایک تجارتی نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ ایکسپو کا اہتمام بیجنگ اور ماسکو نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

پوٹن جمعرات سے چین کے دورے پر تھے، جو اپنی نئی صدارتی میعاد کے آغاز کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی سائنسی اور تحقیقی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز اور اختراعات میں تعاون کو گہرا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قائدانہ پوزیشن لینے اور عالمی معیشت میں مسابقت کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ جمعرات کے روز جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سمیت وسیع شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔

چین کی وزارت خارجہ کے مطابق، شی نے جمعرات کو ایک میٹنگ میں پوٹن کو بتایا کہ چین مناسب وقت پر، روس اور یوکرین کی طرف سے تسلیم شدہ بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کی حمایت کرتا ہے جس میں مساوی شرکت اور تمام آپشنز پر منصفانہ بحث ہو گی۔ شی نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ چین یوکرین کے مسئلے کے جلد از جلد سیاسی حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔