سربراہ اجلاس، روسی اور چینی صدور تعلقات مضبوط بنانے کے خواہاں

روس کے صدر ولادی میر پوٹن اور چینی صدر شی جِن پِنگ نے بیجنگ میں ہونے والے اپنے سربراہ اجلاس میں دو طرفہ تعاون کی اہمیت کی تصدیق کی ہے۔

صدر پوٹن جمعرات کی صبح چین کے دو روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے۔ 7 مئی کو اپنی پانچویں مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد ان کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق جمعرات کی سہ پہر اپنی ملاقات کے دوران جناب شی نے صدر پوٹن کو پانچویں مدتِ صدارت پر مبارکباد دی۔ شی نے کہا کہ روس، صدر پوٹن کی زیر قیادت قومی ترقی میں یقینی طور پر نئی ​​اور عظیم تر پیشرفت کرے گا۔

خبر کے مطابق چینی صدر نے پوٹن سے کہا کہ دونوں رہنما گزشتہ برسوں میں 40 سے زیادہ بار ملاقات کر چکے ہیں اور قریبی رابطے میں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ ماسکو کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔

خبروں کے مطابق شی نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم انداز میں مضبوط بنانا ناصرف دونوں ممالک کے لیے کلیدی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ یہ خطے اور دنیا کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی معاون ہے۔

اطلاعات کے مطابق روسی صدر نے جواباً کہا کہ روس اور چین نے حقیقت پسندانہ تعاون کا رشتہ استوار کیا ہے۔

روسی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پوٹن نے کہا کہ روس اور چین کا تعاون بین الاقوامی سطح پر استحکام کے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ پوٹن نے اقتصادی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔