شمالی کوریا نے سائبر حملوں سے 3.6 ارب ڈالر چرائے

اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نگرانوں کو شبہ ہے کہ 2017 سے اپریل 2024 کے درمیان کیے گئے 97 سائبر حملوں کے پیچھے شمالی کوریا کا ہاتھ ہے۔ جن میں تین ارب ساٹھ کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی کی چوری شامل ہے۔

مذکورہ نگران یا مانیٹرز شمالی کوریا پر پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرنے والے سلامتی کونسل کے ماہرین کے پینل کے اراکین تھے۔ روس کی جانب سے اس پینل کے مینڈیٹ کی تجدید کو ویٹو کرنے کے بعد اپریل کے آخر میں اس کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ مانیٹروں نے جمعے کے روز سلامتی کونسل کی شمالی کوریا کی پابندیوں کی کمیٹی کے سامنے اپنا نامکمل کام پیش کیا۔

مانیٹروں نے اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک ایکسچینج سے 14 کروڑ 75 لاکھ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی اور مارچ میں کرپٹو مکسر سروس کا استعمال کرتے ہوئے اس کی منی لانڈرنگ کی۔

مکسر سروس، فنڈز کے منبع اور ملکیت کو پوشیدہ رکھنے کے لئے بہت سے صارفین کی کرپٹو کرنسیوں کو خلط ملط کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چوری کی گئی رقم شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل ترقیاتی پروگراموں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماہرین کے اِس پینل کو تحلیل کرنے سے شمالی کوریا کی پابندیوں کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کی اقوام متحدہ کی صلاحیت کمزور پڑ جائے گی۔