جنگ بندی مذاکرات ’قریباً معطل‘: قطری وزیراعظم

قطر نے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لئے اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرکے غزہ میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، ملک کے رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ مذاکرات پر ’’تقریباً جمود طاری‘‘ ہے۔

وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا ہے کہ حماس یرغمالیوں کے بارے میں بات کرنے سے بھی پہلے لڑائی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا خیال مختلف ہے۔

وزیر اعظم نے کہا، ’’جب تک اُن دونوں میں کوئی موافقت نہ ہو ہمیں کوئی نتیجہ نہیں ملے گا‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی شہر رفح پر اسرائیلی حملے نے مذاکرات کو ’پیچھے دھکیل‘ دیا ہے۔

ادھر اسرائیل ڈیفنس فورسز نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز اُس نے غزہ بھر میں ایک سو سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور حماس کے درجنوں جنگجوؤں کو ’’ہلاک‘‘ کیا ہے۔

الجزیرہ کی اطلاع کے مطابق وسطی شہر نُصیرت پر فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔