میانمار کے جمہوریت نواز گروپوں کا جاپان سے امداد کی درخواست

میانمار کی نسلی اقلیت اور جمہوریت نواز گروپوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے ٹوکیو کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی فوجی حکومت کے ساتھ اپنی لڑائی کے بارے میں بتایا اور جاپان سے امداد کی درخواست کی۔

تین نسلی اقلیتی مسلح فورسز کے نمائندوں اور قومی اتحادی حکومت یعنی این یو جی، کے ایک وزیر نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

این یو جی کے وزیر تعلیم اور صحت، زا وائی سو، کا کہنا ہے کہ انہوں نے میانمار کا 65 فیصد علاقہ حاصل کر لیا ہے۔ فوجی حکومت کے خلاف لڑائی 2021 میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

وزیر نے کہا کہ ان کی فورسز اپنی طاقت میں جتنا اضافہ کرتی ہیں فوجی حکومت فضائی حملوں میں بہت سے لوگوں کو ہلاک کرکے اتنی ہی ظالم تر ہو جاتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگوں کو طبی اور امدادی سامان اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک وہ فوج کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے بہت سی رسد فوج کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے جاپانی حکومت پر زور دیا کہ وہ ضرورت مند افراد تک انسانی امداد براہ راست پہنچانے کے طریقے تلاش کرے۔