جاپان اور امریکہ کا ہائپرسونک میزائل روکنے کا نظام تیار کرنے کا معاہدہ

جاپان اور امریکی حکومت کے عہدیداروں نے ہائپر سونک میزائلوں کو روکنے کے لیے ہتھیاروں کے نظام کی تیاری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ہائپرسونک میزائل کم بلندی اور غیر معمولی راستوں پر آواز کی رفتار سے تقریباً پانچ گنا تیزی سے پرواز کر سکتے ہیں، جس کے باعث اِن کا پتہ لگانا یا مار گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔

روس اور چین پہلے ہی ایسے ہتھیار نصب کر چکے ہیں اور شمالی کوریا انہیں تیار کر رہا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں جاپان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایک ایسا میزائل نظام تیار کرنے پر اتفاق کیا تھا جو ہائپر سونک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

بدھ کو دستخط کردہ معاہدے میں کرداروں کی تفویض اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کا تعین کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاپان پروپلشن ڈیوائس کا انتظام سنبھالے گا۔

منصوبے کے مطابق اگلے سال مارچ کے اواخر تک اس نظام کی تیاری شروع ہو گی اور یہ سنہ 2030 کے عشرے میں مکمل ہو گا۔

جاپان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک اپنی میزائل اور متعلقہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنا رہے جس کے باعث وہ امریکہ کے تعاون سے میزائل روکنے کی صلاحیت کو تیزی سے تقویت دینا چاہتی ہے۔