ایٹم بم سے متعلق امریکی سینیٹر کے بیان پر جاپانی وزیر خارجہ کا اظہار افسوس

ایک امریکی قانون ساز کی جانب سے حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی فوجی حمایت پر بحث کے دوران 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کا بار بار حوالہ دیے جانے پر جاپانی وزیر خارجہ کامی کاوا نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

8 مئی کو کانگریس میں اسرائیل کو امریکی اسلحے کی ترسیل کی جزوی معطلی کے بارے میں بحث کے دوران ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم نے کہا، "اسرائیل کو جنگ لڑنے کے لیے وہ سب کچھ مہیا کیا جائے جو اسے درکار ہے۔ وہ جنگ ہارنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ ضروری ہے‘‘۔

اتوار کو این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گراہم نے ایک بار پھر دو جاپانی شہروں پر بمباری کے امریکی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ درست فیصلہ تھا، اسرائیل کو وہ بم دیں جو انہیں جنگ ختم کرنے کے لیے درکار ہیں‘‘۔

گراہم نے یہ بیان جاپان کی جانب سے اُن کے دفتر کو یہ بتانے کے باوجود دیا کہ ٹوکیو اُن کے آٹھ مئی کے تبصرے کو نامناسب سمجھتا ہے۔

منگل کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ کامی کاوا نے کہا کہ گراہم کا تازہ ترین بیان انتہائی افسوسناک ہے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہ کاریوں کو کبھی دہرایا نہیں جانا چاہیے، محترمہ کامی کاوا نے کہا کہ جاپان جوہری ہتھیاروں کی تباہ کن حقیقت کی درست آگاہی کو فروغ دینے کے لئے مسلسل کوششیں کرے گا۔