جاپان میں مقیم چینی محقق کو چین میں 6 سال قید کی سزا

ایک چینی اسکالر کو جاپان کے لیے جاسوسی کے الزام میں چین میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جاپان کی ہوکائیدو یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے سابق پروفیسر یوآن کے کِن کو مئی 2019 میں چین میں عارضی قیام کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں جاپان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے طویل مدتی جاسوسی میں ملوث ہونے کے الزام میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

جناب یوآن کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں یہ سزا جنوری میں شمال مشرقی چین کے صوبہ جِیلِن کے شہر چانگچُن کی ایک عدالت میں سنائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یوآن اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ماتحت عدالت کے فیصلے کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں یوآن کی موجودہ حالت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے کہا، "مخصوص تفصیلات کے لیے مجاز حکام سے رجوع کیا جائے۔"

ساتھی محققین اور دیگر نے یوآن کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔