اسرائیلیوں کا جنگ میں مرنے والوں کو خراج عقیدت

جنگ یا دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پیر کو اسرائیل میں معمولات زندگی روک دیے گئے۔ اس یادگاری دن کئی افراد کی توجہ غزہ کے تنازعے پر مرکوز رہی۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے قوم سے خطاب میں کہا کہ فتح ان کے تابناک ’’مستقبل کو یقینی‘‘ بنائے گی۔

ملک بھر میں لوگوں نے معمولات زندگی میں دو منٹ کا وقفہ کر کے جنگ میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جناب نیتن یاہو نے یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تنازعے کو اسرائیلی عوام کی بقا کا مرحلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "یا تو ہم ہیں یعنی اسرائیل یا وہ یعنی حماس کے عفریت، یا تو جاری زندگی، آزادی، سلامتی اور خوشحالی ہے، یا پھر تباہی، قتل و غارت، عصمت دری اور غلامی"۔

جناب نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلیوں کی آزادی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فتح کے اہداف مکمل کریں گے اور ہمارا مرکزی ہدف تمام یرغمالیوں کی گھروں کو واپسی ہے۔

جناب نیتن یاہو کو اس پورے تنازعے کے دوران تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تقریب کی کارروائی میں بھی ایک شخص نے خلل ڈالا۔ بہت سے اسرائیلی حماس کے حملے سے پہلے سیکیورٹی کی ناکامیوں اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی کے بارے میں برہم ہیں۔ وہ غزہ میں جارحیت کا ارتکاب کرنے والی اپنی افواج کی کارروائیاں بھی دیکھ رہے ہیں۔