بھارت کے عام انتخابات، کشمیری رائے دہندگان نے چوتھے مرحلے میں ووٹ ڈالے

کشمیر کے بھارتی زیرِ انتظام حصے میں رائے دہندگان نے بھارت کے عام انتخابات کے چوتھے مرحلے میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

سات مراحل پر مشتمل اِن انتخابات کا چوتھا مرحلہ پیر کے روز ملک کے 543 انتخابی اضلاع میں سے 96 میں منعقد ہوا۔

بھارتی زیرِ انتظام ریاست جمّوں و کشمیر کے ایک بڑے شہر سرینگر میں رائے دہندگان کے پولنگ اسٹیشنوں کی طرف جانے کے دوران سلامتی فورسز بھاری تعداد میں موجود تھیں۔

بھارت کی حکومت نے 2019ء میں اس ریاست کی 70 سال پُرانی خودمختاری کو ختم کیا اور اِسے اپنے براہِ راست کنٹرول میں لے آئی۔ حکومت کی طرف سے خطّے پر اپنی حکمرانی مضبوط بنانے کی کوشش اِس مسلم اکثریتی ریاست میں بڑی حد تک غیر مقبول تھی۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ رائے دہندگان اس علاقے کی خودمختاری کے خاتمے کے بعد پہلی عام رائے دہی میں اس خطے کو حکومت کے سنبھالنے کے حوالے سے کیا فیصلہ دیں گے۔

انتخابی مہم کے دوران دو علاقائی جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ خودمختاری کو بحال کیا جائے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی استعفیٰ دیں۔ اسی دوران، ایک اُبھرتی ہوئی جماعت کے اراکین نے اُن کی اقتصادی پالیسی کے بارے میں مفاہمتی مؤقف کا اظہار کیا، جو خطّے کی سیاحت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔