اسرائیل کا رفح سے مزید انخلاء کا حکم، شدید بین الاقوامی ردعمل

اسرائیلی فورسز نے رفح میں نئے انخلاء کے احکامات جاری کر دیے ہیں، کیونکہ وہ جنوبی غزہ شہر پر اپنے حملوں کو بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس اقدام سے بین الاقوامی گروپوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے وسطی رفح اور دیگر علاقوں سے لوگوں کو انخلاء کر جانے کا حکم ہفتے کے روز دیا۔ قبل ازیں، اُس نے ایک اطلاع نامہ جاری کیا تھا جس میں مشرقی رفح کے شہریوں سے کہا گیا کہ وہ شہر چھوڑ دیں، جہاں دس لاکھ سے زیادہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً تین لاکھ افراد وہاں سے جا چکے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے سربراہ نے اس تازہ ترین اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اونروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، غزہ کی پٹّی کے لوگوں نے شدّت سے تحفظ تلاش کیا، لیکن اُنہیں یہ کبھی نہیں ملا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

یورپی کونسل کے صدر چارلس مِشیل نے سوشل میڈیا پر کہا کہ رفح میں پھنسے عام شہریوں کو غیرمحفوظ علاقوں میں انخلاء کرنے کے احکامات ناقابلِ قبول ہیں۔

اُنہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرے اور اُس پر زور دیا کہ وہ رفح میں زمینی کاروائی نہ کرے۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس محصور علاقے میں 34,971 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔