مرغابی کے ذریعے ماہی گیری کا موسم کووِڈ پابندیوں کے بغیر شروع

وسطی جاپان میں دریائے ناگارا کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ مرغابی کا استعمال کرتے ہوئے موسم کی روایتی ماہی گیری کی افتتاحی رات کا وہاں آنے والے بہت سے لوگوں نے لطف اُٹھایا۔

یہ ماہی گیری پانچ سالوں میں پہلی بار کووِڈ-19 کی پابندیوں کے بغیر ہوئی۔

اس روایتی ماہی گیری کی تاریخ 1,300 سال سے زائد عرصے پرانی ہے جس میں گِفُو شہر کے ماہی گیر سوئیٹ فِش کے شکار کے لیے مرغابی کا استعمال کرتے ہیں۔

ماہی خور مرغابی کے ذریعے مچھلی کا شکار ہفتہ کی شب آٹھ بجے شروع ہوا، جب مشعلوں سے لیس روایتی لباس پہنے ماہی گیر اپنی کشتیوں پر سوار ہوئے۔

مذکورہ پرندوں کی مچھلی پکڑتے وقت رسی کی پٹیوں پر رہنمائی کی جاتی ہے۔

ماہی گیری کا یہ مظاہرہ اُس وقت عروج پر پہنچا جب چھ کشتیاں اتھلے پانیوں میں مچھلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے یکجا ہو کر کام کر رہی تھیں۔

مشاہداتی کشتیوں پر موجود تماشائیوں نے رات کی ہلکی، پُراسرار ہوا کا جھونکا محسوس کرتے ہوئے، مرغابیوں کو مچھلیوں کے لیے دریا پر اُڑتے دیکھا۔

یہ روایتی شکار 15 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

شہر کے حکام کو توقع ہے کہ اس دیکھنے کیلئے 90,000 لوگ وہاں آئیں گے، جو 2020ء کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔