اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی رکنیت کی تجویز بحال

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کی فلسطینی کوشش کی حمایت کی گئی ہے۔ اس نے سفارش کی کہ سلامتی کونسل اس معاملے پر "مثبت انداز سے" دوبارہ غور کرے۔

جمعے کو قرارداد کے حق میں 143 اور مخالفت میں 9 ووٹ ڈالے گئے جن میں امریکا اور اسرائیل شامل تھے۔ پچیس ممالک غیر حاضر رہے۔

جب قرارداد منظور ہوئی تو اجلاس تالیوں سے گونج اٹھا، اور مندوبین نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کے ساتھ گلے ملنے کے لیے قطار بنائی۔

فلسطینیوں کو اس وقت غیر رکن مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ قرارداد انہیں مکمل رکنیت کے لیے اہل تسلیم کرتی ہے۔

مکمل رکنیت کے لیے سلامتی کونسل سے سفارش کی ضرورت ہے۔ تاہم امریکی وفد نے گزشتہ ماہ ایسی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

جمعہ کو قرارداد کے خلاف اپنے ملک کے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا، "ہمارا ووٹ فلسطینی ریاست کی مخالفت کی عکاسی نہیں کرتا؛ ہم بالکل واضح ہیں کہ ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور اسے معنی خیز طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ریاست صرف اس عمل سے بنے گی جس میں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات شامل ہوں"۔

اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے قرارداد پر تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اقوام متحدہ نے ایک مسخ شدہ اور بےجوڑ فیصلہ کیا۔