مغویان کے اہلِ خانہ کی جاپان اور شمالی کوریا سے مسئلہ حل کرنے کی اپیل

شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا کیے گئے جاپانی شہریوں کے اہلِ خانہ نے اس مسئلے کے فوری حل کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے تاکہ عمر رسیدہ ہوتے والدین کو انکے بچوں سے ملایا جا سکے۔

ان اہلِ خانہ کے گروپ اور ان کے حامیوں نے ہفتے کے روز ٹوکیو میں ایک ریلی نکالی۔ وزیرِ اعظم کِشیدا فُومیو سمیت تقریباً 800 افراد اس ریلی میں شریک ہوئے۔

گروپ لیڈر یوکوتا تاکُویا نے کہا کہ آرِیموتو کیئکو کے 95 سالہ والد آرِیموتو آکی ہیرو اور خود ان کی اپنی 88 سالہ والدہ ساکی اے، متاثرین کے واحد زندہ رہ جانیوالے والدین ہیں۔

ان کی بڑی بہن میگُومی کو 1977ء میں اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ 13 سال کی تھیں۔

انہوں نے اغوا کے معاملے کو انسانی حقوق اور انسانیت کا ایسا معاملہ قرار دیا، جس کے لیے ان کے پاس بہت محدود وقت باقی رہ گیا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام متاثرین کی فوری واپسی کے مطالبے کی شدت کو کم کیے بغیر مذاکرات جاری رکھے۔

یوکوتا ساکی اے نے کہا کہ ان کا خاندان میگُومی کی واپسی کا انتظار یہ جانے بغیر کر رہا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن پر زور دیا کہ وہ اپنی سوچ بدلیں اور متاثرین کو ان کے والدین کے پاس واپس روانہ کریں۔

سابقہ اغوا شدہ خاتون سوگا ہِیتومی، جو 22 سال قبل جاپان واپس آگئی تھیں، نے بھی ریلی سے خطاب کیا۔ انکی والدہ می یوشی کو 1978ء میں ان کے ساتھ ہی اغوا کیا گیا تھا اور ان کا اتہ پتہ ابھی تک نامعلوم ہے۔

محترمہ سوگا نے کہا کہ جاپان میں اتوار کو مدرز ڈے ہے لیکن وہ 46 سال سے اس موقع کو منانے سے قاصر ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہیں کہ ان کی اور ان کی والدہ کی قسمت میں ہی یہ سب کچھ برداشت کرنا کیوں لکھا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ تمام متاثرین جلد از جلد گھر واپس لوٹ آئیں گے۔

شرکاء نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت تمام متاثرین کو فوری طور پر وطن لائے اور شمالی کوریا متاثرین کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کرے۔