پوٹن کا یوم فتح کے موقع پر روس کی جوہری صلاحیتوں پر زور

روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے اپنے ملک کے یوم فتح کی تقریبات کے موقع پر ملک کی جوہری صلاحیتوں پر زور دیا ہے۔ اس اقدام کو اُن مغربی ممالک کے لیے واضح خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یوکرین کی فوجی امداد میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔

روس نے جرمنی میں نازیوں کی شکست میں سابق سوویت یونین کی معاونت کو 79 سال مکمل ہونے پر جمعرات کو یوم فتح منایا۔

صدر پوٹن نے ماسکو میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ روس کسی کو بھی ملک کو دھمکانے کی اجازت نہیں دے گا اور یہ کہ اس کی اسٹریٹجک افواج لڑائی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

فوجی پریڈ میں دکھائے گئے ہتھیاروں میں وہ ہتھیار شامل تھے جو یوکرین میں استعمال ہو رہے ہیں، جیسے کہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اسکندر، جو جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ بیلاروس روس کی غیر اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی مشقوں میں شامل ہو گا۔ پوٹن انتظامیہ بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تعینات کر رہی ہے۔

گزشتہ ماہ، امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالر کی اضافی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے حالیہ دورۂ یوکرین کے دوران کہا تھا کہ یوکرینی شہریوں کو برطانیہ کے فراہم کردہ ہتھیاروں سے روس کے اندر حملہ کرنے کا حق حاصل ہے۔