جاپانی وزیر خارجہ کا ایٹمی دھماکوں سے متعلق امریکی سینیٹ کے ریمارکس پر ردعمل

جاپان کی وزیر خارجہ نے امریکی سینیٹ میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی دھماکوں پر ہونے والی بحث پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر سینیٹ میں بحث کے دوران یہ موضوع چھڑ گیا تھا۔

یہ واقعہ بدھ کو سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران پیش آیا۔ سماعت میں امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کی جزوی معطلی کا معاملہ شامل تھا۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے 1945 میں ایٹمی بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے ہتھیاروں کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

سینیٹر نے کہا، "اسرائیل کو وہ جنگ لڑنے کے درکار سب کچھ دیں جو اسے جیتنی ناگزیر ہے۔ یہ سٹیرائڈز پر ہیروشیما اور ناگاساکی ہیں"۔

ایک موقع پر، گراہم نے سینئر امریکی دفاعی حکام پر دباؤ ڈالا کہ آیا ان کے خیال میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال جائز تھا۔

گراہم نے پوچھا، "کیا آپ کے خیال میں جاپانی شہروں پر دو ایٹم بم گرانے کا امریکی فیصلہ درست تھا"؟

امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین، جنرل چارلس کیو براؤن نے جواب دیا، "میں آپ کو یہ جواب دوں گا کہ اس نے عالمی جنگ روک دی"۔

گراہم نے پھر امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے پوچھا، "کیا آپ جنرل آسٹن سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر آپ وہاں ہوتے تو کیا کہتے کہ ہاں بم گرا دو"؟

آسٹن نے جواب دیا، "میں یہاں پر چیئرمین سے متفق ہوں"۔

جمعہ کے روز ایک نامہ نگار نے جاپانی وزیر خارجہ کامیکاوا یوکو سے ان ریمارکس پر ان کے خیالات پوچھے۔ جواب میں انہوں نے کہا، "میں سمجھتی ہوں کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بارے میں یہ ریمارکس مناسب نہیں تھے۔ جاپان اس بات سے واقف ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری میں بہت سی قیمتی جانیں گئیں اور ایک انتہائی افسوسناک انسانی صورتحال پیدا ہوئی جس میں لوگوں کو بیماری اور معذوری کی وجہ سے ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا"۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا، "جیسا کہ حکومت ایک طویل عرصے سے کہہ رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال ان کی زبردست تباہ کن اور مہلک طاقت کی وجہ سے انسانی ہمدردی کے جذبے سے میل نہیں کھاتا، جو بین الاقوامی قانون کی نظریاتی بنیاد ہے"۔

کامیکاوا نے کہا کہ ٹوکیو نے اس نقطہ نظر کو واشنگٹن کے ساتھ ساتھ سینیٹر گراہم کے دفتر تک بھی پہنچایا ہے۔