فلپائنی سلامتی مشیر کا چینی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

فلپائن کی قومی سلامتی کونسل نے وزارت خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں متنازع شوال کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے پر چینی سفارت کاروں کو ملک بدر کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلپائنی عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

فلپائن کی قومی سلامتی کے مشیر ایڈوارڈو اینو نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا۔

اینو نے الزام لگایا کہ منیلا میں چینی سفارت خانہ "غلط معلومات، غلط اطلاعات اور مسخ شدہ معلومات پھیلانے کی کارروائیوں میں بار بار ملوث رہا ہے"۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد "اختلاف، تفرقہ اور عدم یکجہتی" پیدا کرنا ہے۔

اینو چین کے اس دعوے کا حوالہ دے رہے تھے کہ دونوں ممالک نے جنوری میں بحیرہ جنوبی چین میں سیکنڈ تھامس شوال میں فلپائن کے فوجی مرکز کو دوبارہ سپلائی مشن کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ فلپائن، شوال کو کنٹرول کرتا ہے۔

فلپائن کی حکومت نے معاہدے کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ چین اطلاعاتی جنگ چھیڑ رہا ہے۔

چینی سفارت خانے نے منگل کے روز مبینہ طور پر فلپائنی میڈیا کو ایک سینئر فلپائنی فوجی اہلکار اور ایک چینی سفارت کار کے درمیان مبینہ طور پر فون پر ہونے والی بات چیت کی ریکارڈنگ فراہم کی تھی۔

اینو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی فون پر ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کرنا فلپائن کے اینٹی وائر ٹیپنگ ایکٹ کے خلاف ہے اور یہ "سفارتی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی" ہے۔

فلپائنی حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر بات چیت واقعی ہوئی بھی تھی، تب بھی دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔