جاپانی سیکیورٹی کلیئرنس سسٹم کی تخلیق کا قانون نافذ

جاپانی پارلیمان نے ملک کی اقتصادی سلامتی کے لیے اہم سمجھی جانے والی معلومات تک رسائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نظام کی تخلیق کا بل منظور کیا ہے۔

جمعہ کو ایوان بالا کے مکمل اجلاس میں منظوری پاتے ہی یہ بل نافذ ہو گیا۔

یہ نظام ایسی معلومات کے لیے ہے جن کے افشا ہونے کی صورت میں قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات حساس قرار دی جائیں گی اور بشمول نجی شعبے کی کمپنیوں کے ملازمین ان تک وہی افراد رسائی حاصل کر سکیں گے جنہیں حکومت اسکی اجازت دے گی۔

مرکزی حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، اس کی اتحادی پارٹنر کومیتو اور تین اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے ساتھ ایوان زیریں میں اس بل پر نظر ثانی کی گئی تھی۔

نئے قانون میں حکومت پر لازم ہے کہ وہ ہر سال پارلیمان کو رپورٹ کرے کہ سیکیورٹی کلیئرنس چیک کرنے کے لیے وہ نظام کا اطلاق کس طرح سے کرتی ہے۔ اس طرح کی رپورٹوں میں یہ ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ معلومات کو حساس قرار دیا گیا اور کب انہیں اس درجے سے خارج کیا گیا۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ معلومات کی درجہ بندی آپریشنل معیار کی بنیاد پر جائے۔

حکومت معیارات پر تبادلہ خیال کے لیے ماہرین کا پینل تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔