جاپانی گینکائی قصبے کے میئر ممکنہ نیوکلیئر ویسٹ سائٹ کے لیے ابتدائی سروے پر آمادہ

مغربی جاپان کے ایک قصبے کے میئر کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتہائی تابکار فضلہ ٹھکانے لگانے کی حتمی جگہ کا انتخاب کرنے کے لیے پہلے مرحلے کے سروے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گینکائی قصبے کے میئر واکی یاما شِن تارو نے جمعہ کو یہ اعلان کیا۔

جوہری پلانٹس سے نکلنے والے انتہائی تابکار فضلہ کو قانونی طور پر 300 میٹر سے زیادہ زیر زمین دفن کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ طویل عرصے تک شدید تابکاری کا اخراج جاری رکھتا ہے۔ قانون کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ ٹھکانے لگانے کی ممکنہ حتمی جگہوں کو منتخب کرنے کے لیے تین مراحل میں سروے کیے جائیں۔

سروے کو قبول کرنے والی بلدیات کو ہر مرحلے پر سبسڈی دی جائے گی۔ پہلے مرحلے کے لیے سبسڈی زیادہ سے زیادہ 2 ارب ین، یا تقریباً ایک کروڑ 28 لاکھ 50 ہزار ڈالر اور دوسرے مرحلے کے لیے زیادہ سے زیادہ 7 ارب ین، یا تقریباً 4 کروڑ 49 لاکھ 80 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

ساگا پریفیکچر کے اس قصبے سے قبل جاپان کی دو دیگر بلدیات اس طرح کے سروے کی اجازت دے چکی ہیں۔

گینکائی میں ایک جوہری بجلی گھر ہے جسے کیوشو الیکٹرک پاور کمپنی چلاتی ہے۔ یہ ایسی بلدیہ میں اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہو گا جہاں ایٹمی بجلی گھر واقع ہے۔