اسرائیلی افواج رفح میں داخل ہوئیں تو امریکہ ہتھیاروں کی ترسیل روک دے گا: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی افواج نے جنوبی غزہ کی پٹی کے علاقے رفح میں زمینی کارروائی کی تو وہ اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روک دیں گے۔

بدھ کے روز سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بائیڈن نے حوالہ دیا کہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے بموں اور دیگر ہتھیاروں سے غزہ میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی افواج رفح میں داخل ہوتی ہیں تو ’’میں ہتھیار فراہم نہیں کروں گا‘‘، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فریق پر یہ بات واضح کر دی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بائیڈن نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا تذکرہ کھلے عام کیا ہے۔

جو بائیڈن بظاہر اسرائیل پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے تناظر میں اسرائیل کے لیے امریکی فوج کی مسلسل مدد پر، بین الاقوامی اور اندرون ملک تنقید کا رخ بھی موڑنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم اسرائیل کی سلامتی سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ ہم اُن علاقوں میں جنگ کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت سے دور ہو رہے ہیں‘‘۔