جاپان میں حقیقی اجرت میں کمی کا سلسلہ جاری

تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار سے معلوم ہوا ہے کہ جاپان میں افراطِ زر کے باعث لوگوں کی اجرتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں۔

وزارتِ محنت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مارچ کی نسبت، رواں مارچ میں مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہوں میں 2.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی کا مسلسل 24 واں مہینہ تھا اور 1991 سے موازنے کے لیے اعدادوشمار دستیاب ہونے کے بعد سے اس طرح کی طویل ترین مدت تھی۔

یہ اعداد و شمار کم از کم پانچ ملازمین والے 30,000 سے زائد کاروباری اداروں کے ماہانہ سروے سے حاصل کیے گئے ہیں۔

مارچ کے لیے اوسط کم از کم اجرت 0.6 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 1 ہزار ین، یا تقریباً 1 ہزار940 ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ اضافے کے مسلسل 27 ویں مہینے کی نشاندہی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ 2024 میں اپنے کارکنوں کی تنخواہیں بڑھانے والے آجروں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ رجحان بڑی کمپنیوں اور مزدور یونینوں کے درمیان سالانہ مذاکرات کے نتائج کا عکاس ہے۔