پہلی سہ ماہی میں جاپان کی جی ڈی پی میں کمی کا امکان

نجی شعبے کے تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ جنوری تا مارچ کے دوران جاپان کی معیشت سکڑ گئی ہے۔

وہ صارفین کے اخراجات اور برآمدات کمزور ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

گیارہ تحقیقی فرموں کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں سب نے پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی یعنی مجموعی ملکی پیداوار میں کمی ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ حکومت ابتدائی اعداد و شمار آئندہ جمعرات کے روز جاری کرے گی۔

تجزیہ کاروں نے ایڈجسٹ شدہ افراطِ زر میں منفی 1 فیصد سے منفی 3.3 فیصد تک سالانہ نمو کی پیش گوئی کی ہے۔

ایک کمپنی کے علاوہ باقی سب کا کہنا ہے کہ صارفین کے اخراجات میں اضافے کی شرح ممکنہ طور پر پچھلی سہ ماہی سے کم ہو گئی ہے۔

جاپان کی جی ڈی پی میں ذاتی اخراجات نصف سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ گاڑیوں کی فروخت کمزور رہی کیونکہ کچھ مصنوعات سازوں نے حکومتی سرٹیفیکیشن کے طریقۂ کار میں بے ضابطگیوں پر پیداوار اور ترسیل کو معطل کر دیا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں صارفین نے خوراک پر کم خرچ کیا۔

تمام کمپنیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کی طرف سے ٹھوس اخراجات کے باوجود، گاڑیوں کی ترسیل کم ہونے کی وجہ سے برآمدات میں کمی آئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کپیٹل سرمایہ کاری کے گرنے کا بھی امکان ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی ہوں گے کہ جنوری تا مارچ کے دوران ملک کی معیشت سست روی کا شکار تھی۔