اقوام متحدہ کی عہدیدار کو اے آئی ہتھیاروں پر گہری تشویش

اقوام متحدہ کے دفتر برائے تخفیف اسلحہ کے امور کی سربراہ نے کہا ہے کہ ادارہ مصنوعی ذہانت، یا اے آئی کے فوجی استعمال کے اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آگاہی پیدا کرنے سے بین الاقوامی ضوابط کی ضرورت سے متعلق بات چیت میں تیزی آئے گی۔

این ایچ کے نے انڈر سیکرٹری جنرل اور تخفیف اسلحہ کے امور کی اعلیٰ نمائندہ محترمہ ناکامِتسُو اِیزُومی کا انٹرویو کیا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ غزہ کی پٹی اور یوکرین میں اے آئی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

محترمہ ناکامِتسُو نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ہتھیار دراصل جنگ کے دوران استعمال کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی جنگوں کے انداز اور لڑنے کے طریقوں میں نمایاں تبدیلی لائے گی۔

خاص طور پر مہلک خود مختار ہتھیاروں کے نظام، یا LAWS کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہتھیاروں کے یہ نظام انسانی ہدایات کے بغیر اہداف کا انتخاب کرتے ہیں اور انہیں نشانہ بناتے ہیں۔

اس حوالے سے محترمہ ناکامِتسُو نے، یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی تیار کرنے والے اور تیار نہ کرنے والے ممالک کے درمیان فرق کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی فوجی طاقتیں LAWS میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ طاقتیں مذاکرات میں برتری حاصل کرنا چاہتی ہیں۔