اسرائیل نے رفح میں فوجی کاروائی شروع کر دی

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اُس نے جنوبی غزہ کی پٹّی میں مشرقی رفح کے ایک محدود علاقے پر زمینی حملہ شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی کوشش کے لیے ایک وفد مصر بھیجے گا۔

حماس نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ اُس نے قطری اور مصری ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ گروپ نے جنگ بندی کی اُن کی تجویز قبول کرلی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ "اسرائیل کے لیے قابلِ قبول شرائط پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکان کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش میں ایک وفد مصر بھیجے گا"۔

لیکن اُس نے یہ بھی کہا کہ جنگی کابینہ نے رفح میں کاروائی جاری رکھنے کا متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے، تاکہ حماس پر فوجی دباؤ ڈالا جا سکے اور اس گروپ کے پاس موجود یرغمالیوں کی رہائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

قطر میں قائم سیٹلائٹ نیوز نیٹ ورک الجزیرہ کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے قبول کردہ جنگ بندی کی تجویز تین مراحل پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر مرحلہ 42 روز تک جاری رہے گا۔

حماس پہلے مرحلے میں اسرائیلی قید میں موجود افراد کے بدلے خواتین اور بچوں سمیت 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گا۔

دوسرا مرحلہ غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلاء اور حماس سے تمام باقی ماندہ اسرائیلی مردوں کو رہا کرنے پر زور دیتا ہے، جن میں وہ فوجی بھی شامل ہیں جو قید میں رکھے گئے ہیں۔

تیسرے مرحلے میں اقوامِ متحدہ اور ثالثی کرنے والے ملکوں کی شمولیت کے ساتھ غزہ کی تعمیرِنو کا منصوبہ شامل ہے۔

اسرائیل پر حماس کے جان لیوا حملے اور غزہ کی پٹّی میں اسرائیلی جارحیت کے آغاز کو منگل کے روز سات ماہ ہو گئے ہیں۔