'ڈیجیٹل ٹوئن' ٹیکنالوجی جاپانی معماروں کیلئے مددگار

نئے تعمیراتی منصوبے اپنے اِردگرد کے علاقے پر اچھے اور بُرے، دونوں طرح کا بہت بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔

"ڈیجیٹل ٹوئن" ٹیکنالوجی اب معماروں کو وقت سے پہلے یہ دیکھنے کے قابل بناتی ہے کہ کیا اثر ہوگا، اور یہ تاریخی ڈھانچوں کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو جاپانی تعمیراتی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد استعمال کر رہی ہے۔

بڑی عام ٹھیکیدار کمپنی تائیسئے نے ٹوکیو کے شِنجُوکُو اسٹیشن کا مغربی علاقہ دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے جو بہت سی فلک بوس عمارات کا مسکن ہے، ڈیجیٹل اسپیس میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔

کمپنی نے ڈھانچوں کی شکل کو تھری ڈی یعنی سہ ابعادی لحاظ سے گرفت میں لانے کے لیے خصوصی آلات کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں کا ڈیٹا حاصل کیا۔

عمارت کی اونچائی اور سڑکوں پر لگے درختوں کے متعلقہ مقام کے ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے رکاوٹوں جیسی تفصیلات ملی میٹر میں درست طریقے سے تیار کی جاتی ہیں۔

اس سے مختلف اندازے لگائے جا سکتے ہیں، جیسا کہ یہ دیکھنا کہ ایک نئی بلندی کس طرح دن کے مختلف اوقات میں آس پاس کے علاقوں میں سورج کی روشنی کو روکے گی۔

تائیسئے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس بات کا صحیح احساس فراہم کرے گی کہ نئی عمارات یا تعمیرِنو کے منصوبے، اُن کے آس پاس کے علاقے کو کیسے متاثر کریں گے۔

ایک اور بڑی تعمیراتی کمپنی شِمِیزُو نے، وسطی پریفیکچر فُوکُوئی میں واقع ایہیجی مندر کے ساتھ مل کر مندر کے ڈھانچے کو ڈیجیٹل طور پر دوبارہ تخلیق کیا۔

شِمِیزُو کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس بات کی تصدیق کرنے میں مدد کر سکتی ہے کہ عمارات کتنی اچھی طرح سے محفوظ ہیں، اور کسی آفت یا آگ سے اُنہیں نقصان پہنچنے کی صورت میں اُن کی مرمت میں مدد دے گی۔