صدر شی کی صدر میکرون سے ملاقات، 'نئی سرد جنگ' سے بچنے پر زور

چین کے صدر شی جِن پِنگ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون سے کہا ہے کہ چین اور فرانس کو ایک نئی سَرد جنگ روکنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

شی نے میکرون سے پیر کے روز پیرس میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات صدر شی کے پانچ سالوں میں یورپ کے پہلے دورے کا حصہ تھی اور یہ بیک وقت چین اور فرانس کے درمیان سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی ہے۔

لگتا ہے کہ یہ دورہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کے درمیان بیجنگ کی طرف سے فرانس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ شی نے میکرون سے کہا کہ دونوں ملکوں کو آزادی برقرار رکھنے اور دنیا کی منصفانہ اور منظّم کثیر تقطِیبیت کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

میکرون نے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک عالمی استحکام کو یقینی بنانے میں سُودمند کردار ادا کر سکیں گے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے کہ جب مخصوص شعبوں کو بیجنگ کی طرف سے اعانتیں دینے پر اُس پر تنقید کی جا رہی ہے، جو ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی عدم توازن پیدا کر رہی ہیں۔ میکرون نے منصفانہ مقابلے کے ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے یوکرین پر روسی حملے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ میکرون نے کہا کہ فرانس، روس کو کوئی ہتھیار فروخت نہ کرنے کی چین کی کوشش کے ساتھ ساتھ اُس سامان پر بھی سخت برآمدی کنٹرول نافذ کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتا ہے جسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شی نے کہا کہ چین تماشائی بننے کے بجائے یوکرین میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔