'ابتدائی ارتقائی مرحلے' کے ساتھ الگا نائٹروجن فکسنگ سیل کا جُز دریافت

سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے "ابتدائی ارتقائی مرحلے" کے خلیے کے جُز کے ساتھ ایک سمندری الگا دریافت کیا ہے جو فضا سے نائٹروجن حاصل کر سکتا ہے۔

محققین نے ان نتائج کی اطلاع امریکی جریدے سائنس کو دی۔ ان محققین کا تعلق جاپان کی کوچی یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں سے ہے۔

زمین کی فضا کا تقریباً 80 فیصد حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے۔ لیکن صرف کچھ بیکٹیریا اور دیگر خورد حیات ہی فضا سے نائٹروجن حاصل کر کے اسے حیاتیاتی طور پر مفید شکل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ صلاحیت، جسے نائٹروجن فکسیشن کہا جاتا ہے، اب تک کسی بھی یوکرائٹ میں دریافت نہیں ہوئی تھی۔ یوکرائٹ ایسے خلیوں یا جانداروں کو کہتے ہیں جن میں نیوکلیس یا مرکزہ واضح طور پر موجود ہو۔ یوکرائٹس میں جانور اور پودے شامل ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے پہلی بار سمندری الگا کی ایک قسم، جو کہ تقریباً 20 مائیکرو میٹر لمبا یوکرائٹ ہے، کی افزائش کا طریقہ تیار کیا ہے۔

کیوتو یونیورسٹی کے ایک سمندری مائیکرو بائیولوجسٹ، پروفیسر یوشیدا تاکاشی کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی تحقیق میں اہم ہیں کہ زندگی کی مختلف شکلوں کا ارتقاء کیسے ہوا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ نائٹروجن فکسنگ کی صلاحیت کو کھاد کے بغیر فصلیں اگانے کے طریقے تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔