افغانستان میں مقتول جاپانی ڈاکٹر کا زیر تکمیل آبپاشی نظام مکمل

افغانستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے آبپاشی کی ایک نئی نہر مکمل کی گئی ہے جو آنجہانی جاپانی ڈاکٹر ناکامُورا تیتسُو کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

ناکامُورا کو، جنہوں نے افغانستان میں کئی سالوں تک انسانی امداد فراہم کی تھی، 2019 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کس نے کس وجہ سے قتل کیا۔

جاپانی این جی او پشاور کائی، جس کی افغانستان میں نمائندگی آنجہانی ناکامُورا کر رہے تھے، اب بھی وہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہفتے کے روز مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طالبان حکام اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ نہر کی تعمیر مکمل ہونے میں تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔

قائم مقام وزیر توانائی و پانی عبداللطیف منصور نے کہا کہ جاپانی این جی او کے ارکان نے دور دراز سے پانی لا کر اسے ذخیرہ کرنے کا ناقابل یقین کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے گروپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے افغانستان کے لوگوں کو فراموش نہیں کیا بلکہ ان کے درد کو محسوس کیا اور ان کی مدد کی۔

توقع ہے کہ نئی نہر سے تقریباً 14,000 مقامی باشندوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاری میں بھی مدد ملے گی۔

پشاور کائی کی فُوجیتا چیوکو نے کہا کہ افغانستان میں خشک سالی بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا گروپ ڈاکٹر ناکامُورا کے ذریعہ قائم کردہ آبپاشی کے طریقہ کار کے ذریعے لوگوں کی مدد کرنے اور اسے شدید متاثرہ علاقوں میں لاگو کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔