یوکرینی صدر، روس کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل

روس کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

یوکرین میں 2014ء سے پانچ سال تک صدارتی منصب پر فائز رہنے والے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو اور یوکرین کی بری فوج کے کمانڈر اولیکسینڈر پاؤلیُِوک کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

روسی حکام نے ہفتے کے روز روس کے ضابطۂ فوجداری کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا، تاہم انہوں نے اسکی تفصیلات نہیں بتائیں۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں ان کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اُسی دن اس کا جواب دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ زیلنسکی کو مطلوبہ فہرست میں شامل کیے جانے کی اطلاعات "شکست خوردہ روسی ریاستی مشین اور پروپیگنڈے کی مایوسی کو ظاہر کرتی ہیں، جو توجہ حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی گھڑ سکتی ہیں۔"

ایک امریکی تھنک ٹینک، انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے ہفتے کے روز کہا کہ روس کا یہ فیصلہ ممکنہ طور پر اطلاعاتی کارروائی اور "یوکرین کی موجودہ اور سابقہ ​​مغرب نواز حکومتوں کو بدنام کرنے" کے ساتھ ساتھ "یوکرین کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی" اس کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔