غزہ مذاکرات جاری، لیکن ابھی تک معاہدے کے واضح آثار نہیں

مصر کے دارالحکومت میں، اطلاعات کے مطابق غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کیلیے بات چیت جاری ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ اسرائیل اُس وقت تک مندوبین کو قاہرہ نہیں بھیجے گا جب تک کہ حماس کی جانب سے ایک حالیہ تجویز کو قبول نہیں کیا جاتا۔

خبر رساں اداروں نے ہفتے کے روز اطلاع دی تھی کہ اسلامی گروپ حماس کا ایک وفد اور امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیئم برنز مصر پہنچ گئے ہیں۔ مصر ان مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت روّیے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئے گا۔

مصر کے ذرائع ابلاغ نے مصری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک متعدد اُمور پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔

ایک حالیہ تجویز میں یرغمالیوں کی واپسی کے لیے 40 روز کی جنگ بندی بھی شامل ہے اور اس کے بعد یہ اگلے مرحلے میں آگے بڑھے گی۔

یہ غیر واضح ہے کہ حماس، جو مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، اور اسرائیل جس کا مقصد حماس کو تباہ کرنا ہے، کسی اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔

دریں اثناء، مذاکرات کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے ہفتے کے روز خبر دی کہ رفح میں ایک مکان پر بمباری سے دو بچّوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ غزہ کے دیگر علاقوں میں اسرائیلی بمباری سے پناہ لینے والے فلسطینیوں سمیت تقریباً 12 لاکھ فلسطینی رفح میں ہیں۔

صحت کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازعے میں 34,654 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔