کڑوے ذائقے کے حِسی اعضاء ہو سکتا ہے 45 کروڑ سال پہلے موجود ہوں: محققین

جاپانی محققین کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے دریافت کیا ہے کہ شارک اور کرکری بحری مچھلیوں کی کچھ انواع میں انسانوں کی طرح کڑوے ذائقے کے حِسی اعضاء ہوتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ کڑوے ذائقے کے حِسی اعضاء 45 کروڑ سال پہلے کے ہو سکتے ہیں، جب مچھلی کی ابتدائی انواع جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کی آباء ہیں، کرکری بحری مچھلیوں اور شارک کی شکل میں تیار ہوئیں۔

میجی یونیورسٹی اور ایک تحقیقی انسٹیٹیوٹ کی ایک ٹیم جس نے کڑوے ذائقے کے حِسی اعضاء کے ارتقائی ماخذ کا مطالعہ کیا ہے، اُس نے حال ہی میں کرنٹ بائیولوجی میں اپنے نتائج شائع کیے ہیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے دُم پر کانٹے والی سرخ مچھلیوں اور بامبُو شارک میں TAS2R نُطفے دریافت کیے ہیں جو انسانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ نُطفے زبانی حِسی اعضاء میں ظاہر ہوتے ہیں جنہیں ذائقے کے خلیے کہا جاتا ہے۔

مذکورہ محققین کا کہنا ہے کہ قدیم مچھلیوں کی کچھ انواع نے جو انسانوں کی آباء ہیں، تقریباً 45 کروڑ سال پہلے دُم پر کانٹے والی مچھلیوں اور شارک کی شکل میں ارتقاء کیا، اور امکان ہے کہ اُس وقت کڑوے ذائقے کے حِسی اعضاء پہلے سے موجود تھے۔

محققین کا قیاس ہے کہ مچھلی کی قدیم انواع نے جبڑے، اور مختلف قسم کے کھانوں کو کھانے کی صلاحیت حاصل کی، اور یہ کہ کڑوے ذائقے کے حِسی اعضاء اُنہیں غلطی سے زہریلی چیز کھانے سے روکنے کے لیے تیار ہوئے۔