شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا شدہ جاپانیوں کے رشتہ داروں کا دورۂ امریکہ

شمالی کوریا کے ہاتھوں اغوا شدہ جاپانی شہریوں کے رشتہ دار، امریکہ کے دورے سے واپس لوٹ آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اغوا کے معاملے کو حل کرنے کے لیے امریکی حکومت کے عہدے داروں اور اراکینِ پارلیمان کی مفاہمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ان لواحقین نے باقی ماندہ تمام اغوا شدگان کو جاپان واپس لانے کی غرض سے امریکی حمایت حاصل کرنے کیلیے، پیر کے روز سے واشنگٹن کا دورہ کیا ہے۔

انہوں نے جاپانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ باقی تمام مغویان کو ایک ساتھ واپس لانے کا مطالبہ ترک نہ کرے۔

واشنگٹن میں اپنے قیام کے دوران، گروپ نے امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کی، جن میں قومی سلامتی کونسل کی میرا ریپ ہُوپر اور وزارت خارجہ میں شہری سلامتی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی انڈر سیکریٹری عذرا ضیا کے ساتھ ساتھ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے اراکین بھی شامل تھے۔

گروپ نے فروری میں فیصلہ کیا تھا، کہ اگر پیانگ یانگ تمام مغویان کو انکے والدین کی زندگی میں ہی واپس بھیج دیتا ہے، تو گروپ جاپان کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیاں ہٹانے کی مخالفت نہیں کرے گا

گروپ نے کہا کہ اس نے امریکہ میں اپنے موقف کی وضاحت کی اور ان کی مفاہمت حاصل کر لی ہے۔