کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل کے شبے میں 3 افراد گرفتار

کینیڈا کی پولیس نے گزشتہ سال ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کے شبے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ مشتبہ افراد کے بھارتی حکومت سے ممکنہ تعلقات کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔

مذکورہ سکھ مذہبی رہنما کو گزشتہ سال جون میں مغربی کینیڈا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہ کینیڈا کا شہری تھا اور اطلاعات کے مطابق شمالی بھارت میں تحریک آزادی کا حامی تھا۔ تینوں مشتبہ افراد بھارتی شہری ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی حکومت پر جان لیوا فائرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

کینیڈا کی وفاقی پولیس نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے 20 کے پیٹے کے تین بھارتی شہریوں کو قتل میں ان کے مبینہ کردار کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ مشتبہ افراد البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں ایک گھر میں ٹھہرے تھے، جہاں سے تقریباً 800 کلومیٹر دور سکھ رہنما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پولیس نے شواہد یا ممکنہ محرکات کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ دیگر افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

کینیڈین حکام پہلے ہی ایک بھارتی سفارت کار کو ملک بدر کر چکے ہیں جس پر قتل میں کردار ادا کرنے کا شبہ تھا۔

بھارت ناصرف اس الزام کی تردید کرتا ہے بلکہ اس نے بھارت میں کینیڈا کے سفارت کاروں کے خلاف جوابی کارروائی بھی کی ہے۔ بگڑتے دوطرفہ تعلقات کی روشنی میں کینیڈا نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت سے سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا ہے۔