بائیڈن کا 'زینو فوبک' سے متعلقہ بیان 'افسوسناک' ہے: حکومتِ جاپان

جاپانی حکومت نے امریکی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے جاپان کو زینو فوبک یعنی غیرملکیوں کو انتہائی ناپسند کرنے والا قرار دینے کا بیان "افسوسناک ہے۔"

بائیڈن نے بُدھ کے روز فنڈ جمع کرنے کی مہم کی ایک تقریب میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ نمو پاتی امریکی معیشت کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ تارکینِ وطن کو خوش آمدید کہتی ہے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا "چین معاشی طور پر اس قدر بُری طرح کیوں رُک رہا ہے؟ جاپان مشکل میں کیوں ہے؟ روس کیوں ہے؟ بھارت کیوں ہے؟ کیونکہ وہ غیرملکیوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں، وہ تارکینِ وطن نہیں چاہتے"۔

حکومتِ جاپان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹوکیو نے واشنگٹن کو بتایا کہ یہ بات "افسوسناک" ہے کہ مذکورہ بیان جاپانی پالیسیوں کے درست ادراک پر مبنی نہیں تھا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اِس کے بعد ٹوکیو نے واشنگٹن کو جاپان کے مؤقف اور پالیسیوں کی وضاحت کی۔

جمعرات کے روز، ایک نامہ نگار نے وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارِین ژون پیئر سے بائیڈن کے بیان کے بارے میں پوچھا۔ نامہ نگار نے لفظ زینوفوبِک کو توہین آمیز اور منفی قرار دیا، خاص طور پر جب یہ کسی اتحادی کے خلاف استعمال کیا جائے۔

ژون پیئر نے وضاحت کی کہ بائیڈن اس بارے میں ایک وسیع نقطہ بیان کر رہے تھے کہ تارکینِ وطن کس طرح امریکہ کو مضبوط بناتے ہیں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ امریکہ-جاپان تعلق ایک اہم، گہرا اور پائیدار اتحاد ہے۔