جاپان اور یورپی یونین سپلائی چینز کے تحفظ پر متفق

جاپان اور یورپی یونین کے حکام کی ملاقات میں اقتصادی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انہوں نے سیمی کنڈکٹرز اور دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے چند ممالک اور علاقہ جات پر حد سے زیادہ انحصار سے گریز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

جاپان کی وزیر خارجہ کامی کاوا یوکو اور معیشت، تجارت اور صنعت کے وزیر سائتو کین نے جمعرات کے روز پیرس میں یورپی کمیشن کے ایگزیکٹو نائب صدر والڈِس ڈومبروفس کِس سے ملاقات کی۔

حکام نے بشمول سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کو ’’اسٹریٹیجک اشیاء‘‘ قرار دیتے ہوئے انکے حصول میں چین جیسے ممالک پر زیادہ انحصار کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بات حکام کے علم میں ہے کہ کچھ کمپنیاں منڈیوں میں سستی مصنوعات کی بھرمار کر دیتی ہیں۔ لہذا حکام قیمتوں کو ترجیح دینے میں کمی لانا چاہتے ہیں۔ وہ آب و ہوا کے تحفظ اور سائبر حملوں سے دفاع جیسے دیگر معاملات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جناب سائتو نے کہا، ’’جاپان اور یورپی یونین نے شفاف، لچکدار اور پائیدار سپلائی چینز کی تشکیل اور انہیں مضبوط بنانے، اور ہم خیال ممالک تک انہیں وسعت دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے‘‘۔